بھٹکل 19/نومبر (ایس او نیوز) اتوار شام آٹھ بجے سے پیر صبح دس بجے تک بھٹکل تعلقہ میں بجلی سپلائی بند ہوجانے سے آج پیر صبح بھٹکل کے بعض پرائیویٹ اسکولوں میں چھوٹے بچوں کو چھٹی دینی پڑی کیونکہ الیکٹری سٹی نہ ہونے سے اسکول میں پانی بند ہوگیا اور بالخصوص ٹوائلٹ میں پانی نہ ہونے سے اسکول انتظامیہ کے لئے یہی بہتر لگا کہ وہ چھوٹے بچوں کو چھٹی دے کر گھر پر ہی بٹھائیں رکھیں۔
محکمہ الیکٹری سٹی کی جانب سے اتوار شام کو بجلی بند ہوتے ہی وہاٹس ایپ مسیج کے ذریعے میڈیا والوں کو خبر دی گئی تھی کہ ہوناور تعلقہ کے آننت واڑی میں 110 کلو واٹ کا انسولیٹر خراب ہوگیا ہے جس کی وجہ سے پورے شہر میں بجلی سپلائی بند ہوگئی ہے۔ وہا ٹس ایپ کے ذریعے پہلے پیغام میں بتایا گیا تھا کہ رات ایک بجے تک بجلی سپلائی بحال ہوجائے گی مگر بعد میں دوسرے مسیج میں محکمہ الیکٹری سٹی کی جانب سے بتایا گیا کہ صبح نو بجے کے بعد ہی بجلی بحال ہوسکتی ہے۔ لیکن قریب صبح دس بجے ہی شہر میں بجلی بحال ہوئی۔
رات کو بجلی بند ہوجانے سے شہر کے عوام کو سخت گرمی میں رات گذارنی پڑی، ایسے میں مچھروں کی بھرمار نے لوگوں کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا، ایک طرف بچوں کا ، رو رو کر برا حال تھا تو دوسری طرف بڑوں کو بھی پوری رات جاگ کر گذارنی پڑی۔ ایسے میں صبح تک جب بجلی بحال نہیں ہوئی تو مدینہ کالونی اور جامعہ آباد روڈ پر واقع پرائیویٹ اسکولوں کے" ایل کے جی" اور" یو کے جی" کے بچوں کو چھٹی دے دی گئی۔ہوسکتا ہے کہ دیگر اسکولوں میں بھی چھوٹے بچوں کو چھٹی دی گئی ہو، مگر اطلاع نہیں ملی۔ بتایا گیا ہے کہ اسکولوں میں بالخصوص چھوٹے بچوں کے لئے پانی بے حد ضروری ہوتا ہے، لیکن بجلی نہ ہونے سے پانی سپلائی بند تھی، جس کو دیکھتے ہوئے ان اسکولوں میں "کے جی" کے بچوں کو چھٹی دینی پڑی۔
بھٹکل میں بجلی کے بار بار فیل ہوجانے کو دیکھتے ہوئے آج کل بڑے گھروں میں انورٹرکا استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بجلی کے چلے جانے پر اُن لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا، البتہ بجلی فیل ہوجانے سے متوسط طبقہ کے لوگوں کی نیندیں اُڑجاتی ہیں۔ ایسے میں مچھروں پر قابو پانے کے لئے شہر کی میونسپالٹی اور پنچایت کی جانب سے بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔ عوام بار بار ذمہ داران پر زور دے رہے ہیں کہ بھٹکل میں کم ازکم راتوں کے اوقات میں بجلی فیل ہوجانے کی صورت میں ہیسکام آفسران پر زور لگائیں کہ وہ راتوں کو ہی مرمت کا کام انجام دیں اور بجلی کی بحالی اگلے دن پر نہ ٹالیں۔اسی طرح عوام میونسپل اور پنچایت حکام پر بھی زور دے رہے ہیں کہ وہ مچھروں پر قابو پانے کے لئے گھروں کے اطراف مچھر مار دوائوں کے چھڑکاو کو یقینی بنائیں،عوام کا کہنا ہے کہ دس پندرہ سال پہلے گھر گھر دوائوں کا چھڑکاو کیا جاتا تھا، مگر یہ سلسلہ بند ہوکر عرصہ گذر رہا ہے اور ذمہ داران خاموش ہیں۔